عدالت پارلیمنٹ کے کاموں میں مداخلت نہ کرے

سپریم کورٹ میں آج، حکومت (درپردہ) کی طرف سے پانامہ کیس کی سماعت روکنے کی درخواست دائر ہوئی…. درخواست کا موقف کچھ یوں تھا کہ..انکوائری کمیشن بل پارلیمنٹ میں زیر التوا ہے… لہذا عدالت پارلیمنٹ کے کاموں میں مداخلت نہ کرے…. پانامہ پر پارلیمنٹ قانون سازی کر رہی ہے …عدالت ٹی او آرز بنانے کی مجاز نہیں ہے..
یہ کافی پیچیدہ مسئلہ ہے….. کیونکہ اگر ہم پارلیمنٹ بنام سپریم کورٹ کریں تو پارلیمنٹ وہ ادارہ ہے جو قانون سازی کرتا ہے… اور عدالت آئین و قانون کی تشریح کرتی ہے…. مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ عدالت قانون سازی پر بالکل بے بس ہے….
پہلے سے موجود آئین سے متصادم قانون سازی کرنے کی اگر کوشش کی جاتی ہے تو عدالت اسے روکنے کی مجاز ہے…. کونسا ادارہ اعلی ہے اس کا فیصلہ کرنا بے حد مشکل ہے کیونکہ دونوں ادارے اپنے دائرہ کار میں سپریم ہیں…. اور ایک دوسرے کو بائے پاس نہیں کر سکتے..
آج سپریم کورٹ نے وزیراعظم کے وفاقی کابینہ کو بائے پاس کرنے کے اختیارات کو کالعدم قرار دینے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست خارج کر دی… اور کہا کہ وفاقی حکومت سے مراد پوری کابینہ ہے .. ناکہ صرف وزیراعظم.. یہ اختیارات آئین سے متصادم ہیں…. لہذا اوپر کے پیراگراف میں جو نقطہ میں نے اٹھایا کہ پارلیمنٹ بھلے آئین سازی کر سکتی ہے… مگر وہ بنیادی آئین سے متصادم نہیں ہو سکتی… اگر ہو گی تو عدالت مداخلت کرے گی….
اس سے پہلے پارلیمانی کمیٹی جو کہ انیسویں ترمیم کے تحت بنی تھی اس نے چھ ہائی کورٹ ججز کو ایکسٹینشن نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا… جس پر سپریم کورٹ نے مداخلت کر کے یہ حکم دیا تھا کہ ایکسٹنشن دی جائے اور کمیٹی کا فیصلہ آئین سے متصادم ہے….
یعنی آئین سازی پارلیمنٹ کا اختیار ہے…لیکن سپریم کورٹ دیکھ سکتی ہے کہ بننے والے قوانین آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم نہ ہوں…
اگر حکومت کی درخواست پر غور کریں.. تو ایک لحاظ سے بھی درست بھی ہے.. لیکن سپریم کورٹ یہ پوئینٹ اٹھا سکتی ہے کہ پارلیمنٹ اتنے عرصے سے سو رہی تھی….؟؟ نیزمزید کتنا وقت درکار ہو گا…. اگر معاملہ پارلیمنٹ کا ہے تو اپوزیشن کے کیا تحفظات ہیں….
جب کیس سماعت کے لیے منظور ہو چکا ہے… تو ٹی او آرز کے مدعا پر نہیں پھس سکتا… سپریم کورٹ نے تمام فریقین سے کہا تھا کہ اپنےاپنے ٹی او آرز فائنل کریں ورنہ عدالت کرے گی… تو یہ بات کسی گنجائش کے بغیر نہیں کی جا سکتی…. اگر عدالت آئین کے تحت کسی کیس کے سلجھاؤ میں کوئی کمیشن بنانے کا اختیار رکھتی ہوئی تو ضرور بنا سکتی ہے…
نیز عدالت یہ پوئینٹ بھی اٹھا سکتی ہے کہ… پارلیمبٹ ابھی بل بنا رہی ہے…لہذا تب تک عدالت از خود کمیشن بنا سکتی ہے
اب سوال یہ ہے کہ ..کیا سپریم کورٹ اس درخواست کو آئینی طور پر درست سمجھے گی اور سماعت ملتوی کر کے پارلیمنٹ کو وقت دے گی وہ قانون سازی کر لیں.. یا سپریم کورٹ اسے تاخیری حربے قرار دے کر، از خود ٹی او آرز کا تعین کر کے کیس کو انجام تک پہنچائے گی

Category:

Uncategorized